- FaZi DaR

کپڑوں،جوتوں ، اور بناؤ سنگھار سے زیادہ اپنے مطالعہ، شعور اور گفتگو پر کام کریں۔۔کوئی بھی دس سیکنڈ آپ کے سنگھار سے متاثر ہوسکتا ہے ۔۔اس کے بعد اپکو گفتگو ہی کرنی ہوتی ہے

Monday, October 7, 2019

کچھ دن پہلے ایک دوست کے ساتھ بازار گیا جوتے خریدنے کے لئے وہ ایک بڑی سی دکان میں داخل ہوا اور سینڈل پسند کئے جسکی قیمت 2249 روپے تھی جوکہ اسنے فکس ریٹ کوسمجھتے ہوئے بنا کسی بحث کے پیسے دیئے اور چل دیا.. راستے میں ایک فروٹ کی ریڑھی پر کھڑا ہوا اور کیلے کا ریٹ پوچھا تو ریڑھی والے نے کہا پوتر 80 روپے درجن نیں...
70 روپے دے دیوا دا.. تو میرے دوست نے ریڑھی والے کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے کہا چاچا پیچھے الا تے 60 روپے دے ریا اے... 60 روپے درجن دینے تے دے نئ تے میں اگو پتا کر لیندا.. جس پر وہ شخص فوری مان گیا... اور 60 روپے درجن دے دیئے....
میں چلتے چلتے سوچ رہا تھا ہمیں لوگ کتنے چالاک ہو گے ہیں کتنی جلدی آدمی کو پہچان لیتے ہیں کہ کون ہمیں کیسی باتیں کرنے پر ڈسکاؤنٹ دے گا...
اور واقعی ایسی قوم آخرت میں بھی جوتوں کی ہی قابل ہے پھلوں کی نہیں.... 😊

والسلام...
فیضی ڈار...

No comments:

Post a Comment

Thanks for ThaT Remarks