پاکستان میں اس وقت 60٪ پرائیویٹ سکول بن چکے ہیں جو ہمارے بچوں کو تعلیم سے منور کررہے ہیں سکولوں کی زیادتی کی وجہ سے پڑھے لکھے ٹیچرز کی قیمتیں صرف دس سے بارہ ہزار رہ گئی ہے ان پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانے والی/والے ٹیچرز کے مالی حالات بہت خراب ہوتے ہیں جو سارا دن پڑھا پڑھا کر 7 سے 8 ہزار بامشکل لیتی ہیں
پرائیویٹ سکول میں پانچ ، دس ہزار ماہانہ بچے کی فیس ادا کرنے کے بعد کبھی وقت نکال کر اس بچے کی ٹیچر سے ڈائریکٹ بھی مل لیجیے ۔۔۔۔۔ ہو سکتا اُس بیچاری کی تنخواہ آپ کے بچے کی ماہانہ فیس سے بھی کم ہو ۔
اگر وہ آپ کے بچے کو علم تربیت سبق دے رہی ہے تو آپ کم از کم اس کو حوصلہ ہی دے دیں۔۔۔۔۔۔ اپنے شیڈول میں سے ایک دن مِس کریں جس دن آپ آؤٹنگ یا ہوٹلنگ پر پانچ سے دس ہزار روپے لگاتے ہیں۔۔۔۔ اس سے ایک اچھا سا گفٹ خرید کے اس ٹیچر کو دیں۔۔۔۔۔۔۔ باخدا اس سے بہتر دلی سکون اور خدمت اور کوئی نہیں ہے۔ اس سکول مالک کو بھی ضرور دیکھتے رہیں جو ان بچیوں کے خون سے ، جوانی کی مجبوریوں سے ، تعلیم کی تجارتی دوکان چلاتا ہے ۔ کبھی مذھب اور کبھی جدید تعلیم کے نام پر گاہک پھنساتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں دیکھئے ، جہالت ، مذھبی عیاری اور لبرل مکاری انکی آنکھوں میں رقص کررھی ہو گی ۔ یہ دنیا کی بد ترین مخلوق ہے۔۔۔۔۔ کلین شیو ، پتلون شرٹ ، داڑھی ٹوپی ، سے دھوکہ نہ کھائیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ استحصال کے بد ترین اڈے ہیں ۔ اس ظالم سماج میں اگر کوئی ایسا نہیں کر رہا تو اسے عزت دیجئے ۔
سلامت رھیئے ........
واسلام...
#فیضی_ڈار...
No comments:
Post a Comment
Thanks for ThaT Remarks