- FaZi DaR

کپڑوں،جوتوں ، اور بناؤ سنگھار سے زیادہ اپنے مطالعہ، شعور اور گفتگو پر کام کریں۔۔کوئی بھی دس سیکنڈ آپ کے سنگھار سے متاثر ہوسکتا ہے ۔۔اس کے بعد اپکو گفتگو ہی کرنی ہوتی ہے

Saturday, December 14, 2019

میں ایک وکیل ہوں
کالے کوٹ میں انسان کا جھوٹ سفید کرتا ہوں
کبھی مظلوم کو انصاف دلانے کی خاطر
تو کبھی مظلوم کو انصاف سے محروم کرنے کے لئے
دلیل, منطق, شواہد اور گواہوں کو بناتا اور مٹاتا ہوں
میں ایک وکیل ہوں
کالے کوٹ میں کسی انسان کے کالے ضمیر کی بولی لگاتا ہوں اور اسے معصومیت کی سند بھی دان کرتا ہوں
تمہاری سوچ کی طرح میری بھی درجہ بندی ہے
کسی کم ظرف کی مانند کچہری میں سرِ بازار اپنے علم کی بولی لگاتا ہوں
تو اعلیٰ ظرف کی طرح کروڑوں کے چیمبر میں کتابوں کو سجاتا ہوں
میرے چیمبر میں کتنے ہی وکیلوں کو مجھ سے کام ہوتا ہے
وہ اپنے روزگار کی خاطر میری فائلیں, میرے بستے اٹھاتے ہیں
ضرورت پڑنے پر میری گاڑی کا دروازہ میرے آتے ہی کھولیں گے
میری فرعونیت تکبر کے اوجِ ثریا سے بلند پرواز کرتی ہے
میں جب ظالم کی خاطر کیس کو سالوں چلاتا ہوں
تو کسی مظلوم کی فریاد اور ٹوٹی ہوئی جوتی جو ہر تاریخ پر پھر سے عدالت کے فرش پر پٹخی جاتی ہے
میرے لئے باعثِ سکونِ قلب ہوتی ہے
میں جب کمرہ عدالت میں زیادتی کا شکار کسی لڑکی کا اپنے منطقی عضوِ تناسل سے ریپ کرتا ہوں
تو میرے حواری میری اس جرات رندانہ پہ میری مردانگی کی داد دیتے ہیں
میرے کوٹ کی کالک کسی وارڈن, کسی ٹیچر, کسی ڈاکٹر, کسی انسان کو مجھ سے بلند ہونے نہیں دیتی
میری لگامیں کسی جنگل میں پھرتے بے لگام گھوڑے کی مانند اتنی ڈھیلی ہیں کہ میرے جوش اور غیض و غضب میں کسی اسپتال کا تقدس پامال ہو جائے تو ہو جائے
مگر میری انا کا ایک ایک حصہ ذرا بھی ٹھیس نہ کھائے
مجھے کیا فکر وینٹیلیٹر پر پڑے کسی انسان کی موت کی
میں تو ہر روز انصاف کی موت پر اپنے لبوں کو سی کے رکھتا ہوں
بتاؤ تم بھلا انسان کی موت کسی انصاف کی موت سے کیونکر مکرم ہو سکے گی؟
اب ذرا چشمِ زدن میں میرے کوٹ کا رنگ سیاہ سے سفید کر ڈالو
میری گردن میں کالی ٹائی کی جگہ سٹیتھو سکوپ رکھ دو جس کا اک سرا میرے دل کی بے حسی کو ڈھانپتا ہو
میں مسیحائی کی سرِ بازار اک بولی لگاتا ہوں
سرکاری اسپتالوں میں مریضوں پر تو بس میرے جونئیر سٹاف کی مشق چلتی ہے
پرائیویٹ اسپتالوں میں میری پھرتی بصد لائقِ تعریف ہوتی یے
رقاصہ کی جوانی اور میرا بڑھاپا کبھی نہ ختم ہونے کا طلبگار ہوتا ہے
حکومت سے لڑائی ہو, سروس سٹرکچر کی تباہی ہو, علاج گاہوں سے متعلق قوانین میں ترامیم ہوں یا پھر وکیلوں کی کسی تنظیم سے زور آزمائی ہو
میں مریضوں کی حمایت کا علم لے کر سڑکوں پر نکلتا ہوں
میرے ہم کوٹ بھائی بھی میری طرح عدالت کے احاطے کو مقفل کر کے سڑکوں پر نکلتے ہیں
سیاہ جلد والے جانور سفید جلد والے جانور سے اکھاڑے میں جھگڑتے ہیں
وہاں سائل امیدِ عدل کا چراغ لے کر اور یہاں پیشنٹس مرض کے علاج کی آس لے کر
سیاہی اور سفیدی میں نیلے آسماں کو دیکھ کر
موت کی فریاد کرتے ہیں

#واسلام...
#فیضی_ڈار

No comments:

Post a Comment

Thanks for ThaT Remarks