سوچ کا حقیقت میں بدلنا۔
آپ جو سوچ رہے ہیں وہ حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ اگر آپ اسے بار بار سوچیں، شدت سے سوچیں تو وہ مخصوص سوچ آپ کے اندر ایک مقناطیسیت پیدا کردیتی ہے۔ وہ مقناطیسیت حقیقی دنیا سے آپ کی سوچی جانے والی چیز کو آپ کی طرف کھینچتی ہے۔ آپ کے قریب کرتی ہے۔attract کرتی ہے۔اس قانون کو law of attraction کہتے ہیں۔
انسانی ذہن میں ایک دن میں قریب ساٹھ ہزار سوچیں آتی ہیں۔ جن میں سے جس سوچ کو انسان اپنی چاہت بنا کر باربار سوچنے لگتا ہے۔ وہ حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہاں ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ انسان جس چیز کی چاہت نہیں کرتا، لیکن مسلسل اسے سوچتا رہتا ہے کہ میری زندگی میں یہ انسان یہ چیز یا یہ واقعہ نہیں ہونا چاہئے۔ تو اس کے باربار سوچنے اور شدت سے سوچنے کی وجہ سے اس کی ان چاہی سوچ بھی حقیقت میں بدل جاتی ہے۔
کیونکہ law of attraction کا اس چیز سے کوئی لینا دینا نہیں کہ جو آپ سوچ رہے ہیں اسے پانے کیلئے سوچ رہے ہیں یا اس سے خوفزدہ ہوکر۔ وہ تو بس آپ کی سوچی ہوئی چیز کو آپ کی زندگی میں شامل کرنے کے لیے ہر وقت ایکٹیو رہتا ہے۔
اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بدگمانیاں پالنے اور غلط سوچ رکھنے والے کی زندگی بےشمار پریشانیوں سے گھری ہوتی ہے۔اس کی مسلسل ناشکریاں اسکی زندگی کا سارا سکون تباہ کردیتی ہیں۔اسی لیے کہتے ہیں کہ ہمیشہ اچھا اور پازیٹیو سوچیں۔
نیگیٹو نہ سوچیں۔
بدگمانیوں سے بچیں۔
انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ چاہت کرتا ہے۔
آپ بھی law of attraction کو استعمال کرکے اپنی چاہت کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔
حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ تم الله سے جیسا گمان رکھو گے اسے ویسا ہی پاؤ گے۔اس لیے کہاجاتا ہے کہ الله سے ہمیشہ اچھا گمان رکھو۔
الشمس تبریز نے بھی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ہم جو بھی بولتے ہیں وہ الفاظ ضائع نہیں ہوتے۔ بلکہ مقررہ مدت کے بعد لوٹ کر واپس ہماری ہی طرف آتے ہیں۔ اور اسی کو بنیاد بنا کر وہ مزید فرماتے ہیں کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ کسی انسان کی ذاتی خوشی معاشرے کے اجتماعی خوشی بن جائے گی اور اسی طرح کسی انسان کا انفرادی غم پورے معاشرے کا غم بن جائے گا۔یعنی کسی کی مثبت یا منفی سوچ پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
واصف علی واصف نے اپنی کتاب کرن کرن سورج میں بھی لا آف اٹریکشن کا ذکر کیا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ قانون قدرت ہے کہ جو بانٹو گے وہی ملے گا،اسی کی فراوانی ہوگی۔یعنی اگر آپ
دولت چاہتے ہیں تو اپنی دولت بانٹیں۔
عزت چاہتے ہیں تو سب کو عزت دیں۔
علم میں اضافہ چاہتے ہیں تو لوگوں میں علم بانٹیں۔
مطلب یہ اٹریکشن کا قانون کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ہمارے دین میں مختلف جگہوں پر مختلف انداز میں اس کا زکر موجود ہے اور مختلف لوگوں نے اسکو اپنے اپنے انداز میں بیان کیا ہے۔ہم چاہیں نہ چاہیں لیکن یہ قانون ہر وقت کام کررہا ہوتا ہے
آپ ہر چیز کو اپنی طرف خود کھینچتے ہیں۔آپ کے حالات، نوکری، شریک حیات دولت یا غربت سب آپ کی سوچ کے مطابق ہی آپ کو ملا ہوتا ہے۔ یعنی جو بھی آپ سوچتے ہیں قدرت آپ کو وہی دیتی ہے۔
جب آپ اس قانون کو جان جاتے ہیں، مان جاتے ہیں تو یہ قانون فطرت آپ کی بہت سی الجھی گتھیاں بھی سلجھا دیتا ہے۔مثال کے طور پر میں سوچا کرتی تھی کہ ایک انسان الله سے مانگتا ہے ایک انسان کسی بت کے آگے فریاد لے کرجاتا ہے۔کوئی پتھر کے سامنے اپنی حاجات بیان کرتا ہے اور کوئی کسی سے بھی نہیں مانگتا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان سب کی ضروریات، خواہشات پوری ہونے کے علاوہ ان کی دعائیں بھی قبول ہورہی ہیں یہ بھلا کیسے؟؟
حالانکہ میرے خیال میں تو صرف الله سے مانگنے والے کی دعا قبول ہونی چاہئے۔لیکن اس قانون کو سمجھنے کے بعد میں نے جانا کہ ان سب کو الله ان کی سوچ اور یقین کے مطابق عطا کردیتا ہے۔جو انسان جس کو بھی رب مان کراس کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے الله اسے اسی کے در سے نواز دیتا ہے۔
اب میری طرح آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ الله ایسا کیوں کرتا ہے؟ انہیں نامراد رکھ کر اپنے یکتا ہونے کا یقین کیوں نہیں دلاتا تو میری عقل یہ کہتی ہے کہ الله کسی کو مجبور کر کے اپنی طرف نہیں لانا چاہتا بلکہ الله تو انسان کو غوروفکر کرکے اسکی مکمل رضامندی کے ساتھ ہدایت کے راستے پر لاتا ہے۔اللہ پتھر کے زریعے لوگوں کی مرادیں پوری کروا دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ خود سوچیں کہ بھلا یہ پتھر ہمیں کیسے کچھ دے سکتا ہے ؟
یہ جو ملا ہے یہ کسی اور عظیم ذات کی عطا ہے۔لیکن جن کے اندر یہ سوچ پیدا نہیں ہوتی الله ان کو ان کی سوچ کے مطابق بھٹکتا رہنے دیتا ہے۔ہدایت نہیں دیتا۔
یعنی جو ہدایت نہیں چاہتا وہ ہدایت کو اٹریکٹ بھی نہیں کرتا۔۔۔۔
اس لیے ہمیں چاہئے کہ ہمیشہ اچھا اور مثبت سوچیں۔منفی سوچ سے بچیں۔تاکہ خوشی اور خوشحالی کو اپنی جانب اٹریکٹ کرسکیں۔
اللہ ہمیں اچھا سوچنے کی توفیق دے آمین۔
خوش رہیں۔خوشیاں بانٹیں۔
No comments:
Post a Comment
Thanks for ThaT Remarks