- FaZi DaR

کپڑوں،جوتوں ، اور بناؤ سنگھار سے زیادہ اپنے مطالعہ، شعور اور گفتگو پر کام کریں۔۔کوئی بھی دس سیکنڈ آپ کے سنگھار سے متاثر ہوسکتا ہے ۔۔اس کے بعد اپکو گفتگو ہی کرنی ہوتی ہے

Sunday, August 25, 2019

*سرگودھا 12 نمبر چونگی کا سفر*
دو سال کی کوشش سے اپنے ایک دوست کے ساتھ جسم فروشی کا دھندہ کرنے والی خواتین سے ملاقات کی...
مجھے سرگودھا میں آئے ہوئے 2 سال ہو چکے ہیں سرگودھا آنے سے پہلے جب میں اپنے دوستوں کو بتایا کہ سرگودھا رہنے جارہا ہوں تو انکی شرارتی انداز اور شیطانی ہنسی اور بات مجھے  گمان میں ڈال دیتی اور وہ اتنا کہتے مزے کرے گا چلے پچ کے رہنا...
سرگودھا آکر مجھے 12 نمبر چونگی کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہاں پر جسم فروشی کا دھندہ عام ہے وہاں آپ کو آپکی چوائیس اور ہر عمر کی لڑکیاں بڑی آسانی سے مل سکتی ہیں..
میں پوچھتا کہ کیا وہاں پر کوئی پولیس چھاپہ نہیں پڑتا؟ اس طرح اتنے بڑے شاہینوں کا شہر اور ایسے کام کیسے؟ میرا تجسس بڑھتا گیا تحقیق بڑھتی گئی کچھ کہتے پولیس والوں کو اپنے ساتھ ملایا ہے کچھ کہتے ان کے پاس لائیسنس ہے کچھ کہتے یہ لوگ متعہ کا لائسنس لئے بیٹھے ہیں دور کے لوگوں کا آپس میں متعہ کرواتے ہیں ایک خاص قواعد قوانین کے ساتھ...
لیکن اس کے علاوہ زیادہ بات یہ تھی کہ وہاں ہر بچہ آسانی سے جاسکتا ہے،خیر میں بھی جانا چاہتا تھا اور دیکھنا اور جاننا چاہتا تھا کیا واقعی  سرگودھا میں یہ کام ہوتے ہیں اور کتنی حد تک...
اور آخر ایک طویل وقفے کے بعد وہاں جانے کا اتفاق ہوہی گیا...
رات کے دس بجے میں اور میرا دوست چونگی کی طرف روانہ ہوئے جہاں ہم دس بج کر تیس منٹ پر پہنچے.
وہاں پہنچتے ہی میں نے اپنا بائیک سائیڈ پر کھڑا کیا اور اس گلی کی طرف نکلے جہاں سے بازار شروع ہوتا تھا... اس گلی کے باہر چھوٹا دروازہ تھا جس کے سامنے ایک بزرگ نما شخص کھڑا تھا جس نے آگے ہاتھ کیا اور کہا بھائی 60 روپے دونوں کے ملا کر... یعنی کے اندر جانے کا ٹکٹ...
60 روپے دئے اور دروازے کے اندر داخل ہوئے ہی تھے کہ ایک تقریبا 23 سالہ نوجوان لڑکی مکمل طور پر بن سنور کر سامنے کھڑی تھی اور دیکھتے ہی بولی اوئے بلے ادھر آ... بلے بات تو سن... میرے دماغ کو ایک عجیب سا دھچکا لگا جو میں سمبھال نہیں پایا تھا کہ دوسری نے آوازیں دینا شروع کردی... ہر 5 قدموں پر ایک گھر تھا اور ہر گھر کے سامنے ہر عمر کی عورت دھلن کی طرح بن سنور کر کھڑی آوازیں دیتی تھی... اگر کسی کی طرف 2 سکنڈ کے لئے دیکھ لیا جائے تو وہ باہر نکل کر ہاتھ پکڑنے پہ بھی آجاتی تھی.. شاید وہ بندہ دیکھ کر پہچان لیتی تھی کہ نیا ہے یا پرانا اور شرما رہا ہے یا گھبرا رہا ہے اس لئے وہ خود ہی بندے کی مشکل کو سمجھتے ہوئے متوجہ کر لیتی تھی... ہر گھر کے باہر دو عورتیں کھڑی ہوتی ہیں جس کے باہر 2 مرد حضرات جنہیں دالال کہا جاتا ہے تاکہ اگر آپ ڈیل کرئے تو نوٹ آپ کے پاس بڑا ہو تو وہ چینج کروا کے لائے گا اور ساتھ کچھ اپنا حصہ بھی مانگے گا...
ہر گھر کے سامنےایک چھوٹی سی دوکان تھی جس میں پان چپس بوتل سگریٹ وغیرہ کی سہولیات تھی..
کچھ جگہوں پر لڑکیاں ڈیک پر گانے لگا کر ناچ رہی تھی اور تماشائی خوب انجوائے کررہے تھے...  عمر کے ساتھ ساتھ ہر عورت کے ریٹ بھی مختلف تھے...اپ کو سن کر دھچکا لگے نہ لگے مجھے ضرور لگا تھا کہ عورت کے ریٹ 200 سے شروع ہوتے اور 500 تک جاتے... یہ تھے ان کے جسم کے کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ ریٹ...
کتنا سستا ہے نہ عورت کا جسم.. کتنا ترقی کر گیا ہے نہ ہمارہ معاشرہ... کتنی مہنگی ہوگئی ہے نہ شادی... اور کتنا آسان ہو گیا ہے زنا وہ بھی ایک پرسکون جگہ اور بنا کسی خوف کے ساتھ....
میں چلتے ہوئے سوچ رہا تھا اس گلی کے ساتھ جو شریف گھروں کی لڑکیاں ہونگی وہ بھی تو اس چونگی کے بارے میں جانتی ہونگی... وہ کیا سوچتی ہونگی ؟  ان کی تربیت میں کیا عسر پڑتا ہوگا؟ ہماری نوجوان نسل پر کتنے منفی اصرات پڑتے ہیں؟ خیر یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے آگے چلتے ہیں....
مجھے ایک عمر رسیدہ عورت نے آواز دی اور اپنی طرف بلایا اس کے پاس گیا تو کہتی ہے آجاو اندر.. میں نے کہاں نہیں میں ایسا نہیں ہوں تو ہنس کر کہتی ایسے نہیں تو آئے کیوں جو ایسے نہیں ہوتے وہ آتے بھی نہیں... بات مجھے بھی آچھی لگی بات تو ٹھیک ہے شریف لوگوں کا یہاں کیا کام جو یہاں آئے ہیں کسی مقصد کے لئے ہی آئے ہیں.. خیر میں نے سوچا چلے گندہ تو اب ہر ایک کی نظر میں ہوہی گیا ہوں جو بھی دیکھے گی مجھے پارسا کوئی بھی نہیں سمجھے گی چلے گپ شب لگاتے ہیں انکے بارے میں پوچھتے ہیں کیوں کیسے کس مجبوری پر یہاں آئی... میں پھر ہر ایک کے پاس گیا تقریبا جن کے ساتھ ملاقات کی سب کا ایک ہی المیہ تھا.. غربت، پیسوں کی ضرورت، بےروزگاری، گھر بار چلانا، بیمار شوہر، گھر کے اخراجات، مکان کا کرایہ اور پیسے ادھار لئے وہ لوٹانے... اور کچھ نے تو بات کرنے سے صاف انکار کردیا اور کہا کام اندر آنا ہے تو ٹھیک نہیں تو ہمارے پاس ٹائم نہیں....
مزید دیکھا تو  اچھی فیملی کے لوگ... شادی شدہ مرد، اعلی تعلیم سے وابستہ لوگ، کاروباری لوگ مڈل کلاس بھی، 15 سال تک کے بچے بھی اس گلی میں چہل قدمی کررہے ہیں بنا کسی خوف کے...
میں انتہائی یقین سے کہتا ہوں جس مرد نے برائی کی طرف جانا ہے ان کی بیویوں کو ہوا بھی نہیں لگتی لاکھ جاسوسی کرلے لاکھ اپنے دماغ کے فتنے کھول لے مگر نہیں.. ناکام ہونگی جو نیک نظر آتے ہیں پردے کے پیچھے کیا ہیں صرف اللہ جانتا ہے الزام تراشی نہیں یقین سے کہتا ہوں بہت کچھ دیکھا ہے...
حدیثیں وعیدیں سنا کر جنت دوزق کے فیصلے سنا دینا آسان ہے مگر جو حل عمل بتا دیا اس پر عمل نہ کرنا.. ایسے ہی باتیں کرتے رہے تو ہمارا معاشرہ زانی ہوجائے گا، نکاح بوجھ ہاجائے گا زنا عام زندگی میں شامل ہوجائے گا...وہاں کی آزادی دیکھ کر میں عجیب سی کیفیت میں جارہا تھا میرا دماغ مزید کچھ پوچھنا اور میرا قلم مزید کچھ لکھنا نہیں چارہا تھا میں خود کو ایک پنجرے میں جکڑا محسوس کررہا تھا اور اپنے اندر ایک آگ کی بھٹی کو سلگتا ہوا محسوس کر رہا تھا میں تیز قدموں کے ساتھ چلنا شروع کردیا اور جلد سے جلد نکلنا چاہتا تھا گلی کی آخری نکر پر پہنچ چکا تھا سامنے فقہ جعفری کی مسجد تھی جسے دونوں ہاتھوں سے سلام کیا اور دروازے سے باہر آگیا....

*والسلام...*
*تحریر :فیضی ڈار...*

No comments:

Post a Comment

Thanks for ThaT Remarks