- FaZi DaR

کپڑوں،جوتوں ، اور بناؤ سنگھار سے زیادہ اپنے مطالعہ، شعور اور گفتگو پر کام کریں۔۔کوئی بھی دس سیکنڈ آپ کے سنگھار سے متاثر ہوسکتا ہے ۔۔اس کے بعد اپکو گفتگو ہی کرنی ہوتی ہے

Saturday, July 25, 2020

کسی کے دل کا حال کیا ہے، دماغ میں کیا سوچ چل رہی ہے، خیالات میں کیا طوفان برپا ہے، کوئی نہیں جانتا اور جب دل کا حال بے حال ہو جائے، دماغ کی سوچیں الٹ پلٹ ہو جائیں اور خیالات کا برپا طوفان قابو میں نہ آئے تو انسان کو ایک ہی آسان حل نظر آتا ہے اور وہ ہے اپنی زندگی کا خاتمہ یعنی خود کشی۔

آج سے 2 سال پہلے مجھ  سے  ایک عورت نے  رابطہ کیا تھا
بہت ہی خوشگوار طبیعت اور چنچل سی عورت تھی.. گانے کی شوقین تھی آواز میں بھی بہت طرز اور سر تھی...
طبیعت ایسی کے روتے ہوئے کو بھی ہنسا دیتی تھی بچوں والی حرکات کرنا اور دوسروں کو خوش کرنا اسکی عادت تھی... چھوٹی سی عمر میں والدین کا جلد فرض ادا کرنے کی سوچ نے شادی کردی
جیسے بہت منتوں عبادتوں اور دعاؤں کے بعد اللہ نے ایک بیٹے سے نوازا....
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا حالات خراب سے خراب ہونا شروع ہوگے صرف غربت کی وجہ سے اور غربت کی وجہ خاوند کا نشہ کا عادی ہوجانا
خاوند کا مرضی سے کام کرنا مرضی سے کام پر جانا کمانا اور گھر میں لانے کی عادت فاقے پر پہنچ آئی...
غربت کی وجہ سے گھر میں لڑائی جھگڑے بڑھنے شروع ہوگے..
حالات اتنے تنگ دست تھے کہ ایک ہی بیٹا 7 سال ہونے کے باوجود سکول میں داخل نہ کروا سکے....
شوہر کا روزانہ گھر سے کام کے لئے جانا اور نشہ کرکے گھر لوٹنا
اور بیوی کے ساتھ بدتمیز کرکے پھر بات مار دھاڑ پر ختم ہونا...
والدین کے گھر جانا نہیں چاہتی تھی کیونکہ انہوں نے خود اپنی غربت کا بوجھ کم کرنے کے لئے اس فرض کو جلدی ادا کردیا...
نوبت لوگوں کے گھروں سے کھانا مانگنے کے لئے نکل جانا اور اپنے اور بچے کا پیٹ پالنا...
کیا کر سکتی ہے ایک ماں کیسے بھوکا دیکھ سکتی ہے اپنی اولاد کو....خود کو بھوکا رکھ کے اکلوتی اولاد کا پیٹ پالتی اور پالتے پالتے خود بیماری تک پہنچ گی...
خدا بھلا کرے وقت کے حاکم کا جس نے احساس پروگرام کے تحت غریب لوگوں کو 12 ہزار دئے جس کی مدد سے علاج کروانا چاہا تو خدا نے ایک اور آزمائش میں ڈال دیا...
گلے کا کینسر....
وہ گلے کے درد کی شدت سے اور نہ ہی موت سے ڈری تھی اگر ڈری تھی تو اپنے بعد اپنے بیٹے کے بارے میں... وہ جان چکی تھی موت اسکے قریب ہے لیکن نہ جانے کیوں کیا بات دل میں لئے بیٹھ گی..
وہ موت کو موت سے پہلے شکست دینا چاہتی تھی...
خود مر کے اپنوں سے کسی بات کا بدلہ لینا چاہتی تھی.. شاید اپنی اس غربت کا جو اپنے گھر سے لائی تھی اپنی قسمت کے ساتھ لائی تھی یا پھر ان سے جہنوں نے اس حالت میں بھی پوچھنا گوارا نہ کیا
یا پھر خود کی قسمت پہ...
ناجانے رات کے پہر کس ڈر نے زیادہ دبوچا...
اپنوں کی بے رخی...
بیٹے کے مستقبل...
خاند کا نشہ کرنا...
بیماری کی حالت میں بےبسی..
یا پھر اپنی جوانی کو اپنی آنکھوں کے سامنے جاتے دیکھنا..
بیماری کی شدید حالت میں بیٹا کہنا کتنا تکلیف دے تھا یہ وہی لمہ بتا سکتا ہے جس لمحے آنسوؤں کے ساتھ بےبسی کی حالت میں بیٹے کو سکون سے سوتے چھوڑ کر گندم میں رکھی جانے والی گولی کو نگل کر دنیا کی تمام پریشانیوں کو چھوڑ کر اور موت کو پہلے شکست دے کر چلے جانا....
ذہن بہت سے سوالات کا متلاشی ہے لیکن صرف ایک سوال کھائے جاتا ہے وہ دعاؤں التجاؤں اور منتوں سے مانگا بیٹا اسکا کیا ہوگا...
بدقسمتی سے ابھی اور بہت سی خود کشیاں شاید مزید دیکھنے کو ملے یہ الگ بات ہے ہمیں فرق صرف پیارے لوگوں کی خودکشی سے پڑتا ہے ہر ماہ کئ افراد اپنے ہاتھوں اپنی زندگی ختم کررہے ہیں بھوک، گھریلو مسائل، خاندان کی عزت بچانے کی ٹینشن، امتحانات کا اسٹریس، محبت میں ناکامی.
اگر آپ کسی کے ان مسائل کو کم کرنے میں مدد نہیں کرسکتے تو کم از کم اسکی یا اسکے گھر والوں کی ذہنی تکلیف کو بڑھانے کا باعث نہ بنیں...
مرحومہ نے جاتے ہوئے اپنا آخری پیغام ریکارڈ کرکے بھیجا تھا جوکہ آواز سے سے سن کر اسکی اذیت اور بےبسی  کا اندازہ لگانا بھی کتنا تکلیف دے ہے...
اللّہ پاک مرحومہ کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے آخرت کی زندگی آسان فرمائے..
(آمین) 
والسلام...
فیضی ڈار...

No comments:

Post a Comment

Thanks for ThaT Remarks