بھروسہ ذات کا اپنی فقط ایک بار دیتا ہوں
جسے میں نہ بچا پاؤں، اسے خود مار دیتا ہوں
دُعا کرتا ہوں میں بے شک تعین اور تیقن سے
مگر کچھ بھی نہ ملنے پر میں دامن جھاڑ دیتا ہوں
اگر دھڑکن چھڑے دل کی، کسی خواہش کی صورت میں
تو پھر اُن دھڑکنوں کو دل میں زندہ گاڑ دیتا ہوں
تجارت کر کے لفظوں کی، کمائی لے کے جذبوں کی
میں اپنے ہاتھ کے لکھے صحیفے پھاڑ دیتا ہوں
مجھے دولت میں مت تولو، میری قیمت نہیں لگتی
میں بندہ یک زباں ہوں، جان اپنی وار دیتا ہو
میں ہر رشتے میں لازم دوستی اس طور رکھتا ہوں
خود اپنے ہاتھ سے دشمن کو میں تلوار دیتا ہوں
میں جس دنیا میں رہتا ہوں، وہاں دھوکہ ہی دھوکہ ہے

No comments:
Post a Comment
Thanks for ThaT Remarks