تحیق سے پتہ چلا ھے کے ڈپریشن آگے چل کر ذہنی حالت کو اس قدر بگاڑ دیتا ھے انسان میں درد دینے اور درد سہنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ھے ایسے ہی ایک ماں نے اپنے دو بچوں کو آگ لگا دی انہیں زندہ جلتے دیکھ کر وہ سیگریٹ پیتی رہی جب وہ نارمل ہوئی تو اس کے بچے جل کر مر چکے تھے پھر جب اس طرح کے واقعات ہو جاتے ہیں تو ھم بڑی بڑی فلاسفی جھاڑنا شروع کر دیتے ہیں ماں تھی یا فرعون ایسا کیسے کرگئی؟
تو خدارا لوگوں کو خوش رہنے دیں کسی کی زہنی بربادی کا سبب مت بنیں کوئی ناچ رہا ھے ناچنے دیں، کسی کی شکل اچھی نہیں لگی تو دفعہ ھو جائیں اپنی پیاری شکل سمیٹ کر ،کسی کی آواز بھدی لگ رہی ھو تو اپنے کانوں میں ایلفی ڈال لیں اس کی زندگی میں دخل اندازی کرنا بند کریں ،کوئی آپ کے ساتھ مخلص ھے تو اسے بھی اتنی توجہ اتنا پیار دیں جتنا وہ آپ کو دے رہا ھے اپنے آس پاس کسی کو ڈپریس پائیں تو اسے ٹکے ٹکے کی باتیں سنانے کی بجائے اسے ہنسانے کی کوشش کریں مگر نہیں،
ہمیں تو شوق ھے لوگوں میں گھس کر انہیں ذلیل کرنے کا،اپنی جلی کٹی گھناؤنی باتوں سے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا، بلا سوچے سمجھے ایسے الفاظوں ایسے القابوں سے نوازنے کا جس کو سن کر ہی انسان ادھ مرا ھو جائے
کیسا منافق معاشرہ بنا رھے ہیں ھم؟؟😔😒
جس میں جب تک پھندہ ڈال کے کوئی جھول کر مرتا نہیں ،جب تک گولیاں پھانک کے اپنی الجھی سانسوں کی ڈور کاٹتا نہیں، تب تک ھم مانتے ہی نہیں کے اگلا ڈپریشن میں تھا😢
یہ معاشرہ انسانیت تو بہت دور کی بات حیوانیت کے معیار سے بھی بہت نیچے گر چکا ھے
احساس کی دنیا،الفاظ کی دنیا سے بہت مختلف ھے
"جس کا درد، اسی کا درد

No comments:
Post a Comment
Thanks for ThaT Remarks